Category Archives: Poetry

The poetry I like..

Hamesha Dair Kar Deta Hoon Main

Standard

Hamesha Dair Kar Deta Hoon

Main Har Kaam Karnay May

Zaroori Baat Kehne Ho

Koi Wada Nibhana Ho

Usay Aawaz Deni Ho

Usay Wapis Bulana Ho

Hamesha Dair Kar Deta Hoon Main

Madad Karni Ho Us Kee

Yaar Ke Dhaarus Bundhana Ho

Bohat Dayreena Rustoo Par

Kisee Se Milne Jaanaa Ho

Hamesha Dair Kar Deta Hoon Main

Budaltay Mausmo Ke Sair May

Dil Ko Lagana Ho

Kisee Ko Yaad Rakhna Ho

Kisee Ko Bhool Jana Ho

Hamesha Dair Kar Deta Hoon Main

Kisee Ko Maut Se Pehlay

Kisee Ghum Se Buchana Ho

Haqeeqat Aur Thi Kuch Us Ko

Jaa Kay Yah Batana Ho

Hamesha Dair Kar Deta Hoon Main

Har Kaam Karnay May

Advertisements

محبت تم نے کی ہوگی

Standard

جو تم کہتے ہو تو میں مان لیتی ہوں
محبت تم نے کی ہوگی
مگر جاناں!
محبت سلسلہ در سلسلہ اپنے تقاضوں میں مقیٌد ہے
تمہیں بھی تو پتہ ہوگا؟
اگر محبوب کے ماتھے پہ آئے اک شکن تک بھی
دراڑیں اَن گِنت سی چاہنے والے کے دل پر بھی اُبھر آئیں
لبوں کی مسکراہٹ توڑ دے دَم،
دھڑکنیں بے دَم سی ہوجائیں
انا محبوب کے پیروں تلے رکھ کر لگے معراج پالی ہے
لگے جاں آئینہ خانے میں تنہا ڈولتی، چاروں طرف بے کل سی پھرتی ہے
سبھی آئینوں میں محبوب کا پیکر دکھائی دے
بچھڑ کے اس سے کچھ بھی نہ سجھائی دے
ہتھیلی پر لیے آنکھیں ، قدم جب بھی اٹھیں تو اس کی جانب ہی سدا اٹھیں
اسے رب کی جگہ مت دو مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب سے اسے کم تر بھی مت جانو
یہ تن مٹی میں مٹی کرکے بھی اس کو منانا جو پڑے تم کو
منالینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گلے اس کو لگا لینا
ذرا بتلاؤ گے جاناں!
کہ تم ان انتہاؤں کے سفر میں کس جگہ پر ہو؟
مگر چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو تم کہتے ہو تو میں مان لیتی ہوں
محبت تم نے کی ہوگی

کہو مجھ سے محبت ہے

Standard

محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے !
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
ا سے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقین کی آخر ی حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو !
نگاہوں سے ٹپکتی ہو ‘ لہو میں جگمگاتی ہو !
ہزاروں طرح کے دلکش ‘ حسیں ہالے بناتی ہو !
ا سے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بار ہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے !
محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑ نے کی گھڑ ی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘
کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘
تمہیں مجھ سے محبت ہے
سمندر سے کہیں گہری ‘ستاروں سے سوا روشن
پہاڑوں کی طرح قائم ‘ ہوا ئوں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں ‘ وفا کے استعار ے ہیں ہمارے ہیں
ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں سنہر ا دن نکلتا ہے
محبت جس طرف جائے ‘ زمانہ ساتھ چلتا ہے ‘‘
کچھ ایسی بے سکو نی ہے وفا کی سر زمیوں میں
کہ جو اہل محبت کی سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو‘ کہ جیسے ہاتھ میں پاراکہ جیسے شام کاتارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں ر ہتی ہے ‘
گماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے الفت کا !
یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خد شوں میں رہتی ہے ‘
محبت کے مسافر زند گی جب کا ٹ چکتے ہیں
تھکن کی کر چیاں چنتے ‘ وفا کی اجر کیں پہنے
سمے کی رہگزر کی آخری سر حد پہ رکتے ہیں
تمہیں مجھ سے محبت ہے
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھا م کر
دھیرے سے کہتا ہے
’’یہ سچ ہے نا !
ہماری زند گی اک دو سرے کے نام لکھی تھی !
دھند لکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے
ا سی کا نام چاہت ہے !
تمہیں مجھ سے محبت تھی
تمہیں مجھ سے محبت ہے !!‘‘
محبت کی طبعیت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے