Category Archives: Literature

Adab, Books & Excerpts

زندگی۔ ایک طرز فکر

Standard

زندگی ایک طرز فکر ہے۔ بیمار یا صحت مند۔ یہ تو خود انسان پر منحصر ہے کہ اس کا اپنا نظریہ حیات کیا ہے۔ اگر ذہن مایوسیوں کی آماجگاہ بنا رہتا ہے تو ساری دنیا بڑی بھیانک نظر آتی ہے۔ پل بھر میں اگر مایوسیوں کے بادل چھٹ جائیں تو جینے کو نیا جواز مل جاتا ہے اور یہی دنیا جنت نظر آنے لگتی ہے اور ہر چھوٹے سے  چھوٹا واقعہ اور ہر معمولی بات ایک خوب صورت حقیقت بن جاتی ہے اور باتیں بھی دل کو بھانے لگتی ہیں جن سے نا معلوم وجوہات کی بنا پر ہم نفرت کرتے ہیں۔۔

میری فلاسفی

Standard

عورت شھد کی طرح ھوتی ھے۔ جب شھد ختم ھو جاتا ھے تو پیچھے صرف کھگا رہ جاتا ھے۔ کسی نے دانشور سے پوچھا کہ زندگی میں سب سے حسین چیز کیا ہے، اس نے جواب دیا کہ عورت۔ پوچھنے والے نے پھر پوچھا کہ  زندگی میں سب سے بد صورت چیز کیا ہے، اس نے کہا کہ عورت۔ دراصل دنیا میں سب سے حسین چیز نسایئت ہے۔ جب عورت میں سے نسایئت ختم ہو جائے تو وہ نہ عورت رہتی ہے اور نہ مرد بلکہ کوئی اور چیز بن جاتی ہے۔ جیسے کھگے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، اسی طرح اس کی بھی اہمیت نہیں ہوتی۔۔۔

Thats LIFE….!

Standard

God created the donkey & said to him: ” You will work unceasingly from sunrise to sunset carrying burdens on your back. You will eat grass, you will have no intelligence & you will live 50 years. You will be a donkey”.  The donkey answered:  I will be a donkey, but to live 50 years is too much, Give me only 20 years. God granted his wish.

 

God created the dog and said to him: “You will be a dog”. You will guard the house of man. You will be his best friend. You will eat the scraps that he gives you and you will live 25 years. You will be a dog. ” The dog answered: “Sir, to live 25 year is too much, you give me only 10 years. God granted his wish.

 

God created the Monkey and said to him: ” You will be a monkey. ” You will swing from branch to branch doing tricks. You will be amusing and you will live 20 years. You will be a monkey. ” The monkey answered: ” Sir, to live 20 years is too much , you give me only 10 years. God granted his wish.

 

Finally God created the man and said to him: ” You will be a man, the only rational creature on the face of the earth. ” You will use your intelligence to become master over all animals. You will dominate the world and you will live 20 years. Man responded: “Sir, I will be a man but to live only 20 years is very little, give the 30 years that the donkey refused, the 15 years that the dog did not want and the 10 years the monkey refused. God granted his wish.

 

Since then, man lives 20 years as a man, he marries and spend 30 years like a donkey, working and carrying all the burdens on his back. Then when his children are gone, he lives 15 years like a dog, taking care of the house and eating whatever is given to him, so that when he is old, he can retire and live 10 years like a monkey, going from house to house, from one son or daughter to another, doing tricks to amuse  his grandchildren.

Thats Life.. Is nt it….?

My Favourite Lines

Standard

“اے اللہ آپ کے فضل اور مہربا نی کی کوئی کمی نہیں  ۔ ۔میں قدم قدم پر آپ کو احسان کرتا ہوا پاتا ہوں
مجھ سے آپ کے مہربانیوں کا شکر ادا نہیں ہوپاتا  ۔ ۔

میری اس کمی کو درگزر فرما ۔ ۔ ۔مجھے ہر درد اور تکلیف سے محفوظ رکھ ۔ ۔ میرے دل کے سکون اور میری خوشیوں کی حفاظت فرما”

(دربار دل-ص17)

انسان کی خوائشات سے اللہ کو دلچسپی نہیں ہے – وہ اس کی تقدیر اپنی مرضی سے بناتا ہے-اسے کیا ملنا ہے اور کیا نہیں ملنا اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے- جو چیز آپ کو ملنی ہےآپ اس کی خوائش کریں یا نہ کریں  وہ آپ کی ہے- وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں جائے گی-
مگر جو چیز آپ کو نہیں ملنا ہے-وہ کسی کے پاس بھی چلی جائے گی آپ کے پاس نہیں آئے گی-

انسان کا مئسلہ یہ ہے کہ وہ جانے والی چیز کے ملال میں مبتلا رہتا ہے -آنے والی چیز کی خوشی اسے مسرور نہیں کرتی

(ایمان ،امید اور محبت-ص 44)

آپ نے کبھی یہ سوچا ہے دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم روپے سے نہیں خرید سکتے  ۔ ۔ ۔جنہیں دعائیں بھی ہمارے پاس نہیں لاسکتیں  اور آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بعض دفعہ وہ چیزیں ہی ہماری پوری دنیا ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔

دل کی دنیا  ۔ ۔ ۔ 

  کیا انسان زمین پر دل کی دنیا کے  بغیر رہ سکتا ہے  ؟؟؟؟

(کس جہاں کا زرلیا،ص 117)

 

“جو چیز اللہ نہ دے – اسے انسانوں سے نہیں مانگنا چاہیے ۔ ۔ ۔انسان بہت خوار ہوتا ہے ۔”

 (من و سلوی)     

زندگی میں ایک چیز ہوتی ہے جسے کمپرومائز کہتے ہیں -پر سکون زندگی گزارنے کے لئے اس کی بہت ضرورت پڑتی ہے- جس چیز کو تم بدل نہ سکو اس کے ساتھ کمپرومائز کر لیا کرو مگر اپنی خوائش کو کبھی جنون نہ بنانا – کیونکہ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں کبھی نہیں مل سکتیں –
چاہے ہم روئیں ،چلائیں یا بچوں کی طرح ایڑیاں ر گڑیں وہ کسی دوسرے کے لیے ہوتی ہیں –
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں ہمارے لئے کچھ ہوتا ہی نہیں کچھ نہ کچھ ہمارے لئے بھی ہوتا ہے “-

امربیل ص 12

My Favourite Lines

Standard

کون کہتا ہے کسی شخص سے ایک بار محبت ہونے کے بعد اس سے نفرت ہو سکتی ہے- – جو کہتا ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ 

 خود کو فریب دینے کے باوجود ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے وجود میں خون کی طرح گردش کرنے والا نام کس کا ہوتا ہے ہم کبھی بھی اسے اپنے وجود سے نہیں  نکال کر باہر نہیں پھینک  سکتے -تہہ تہہ در اس کے اوپر  دوسری محبتوں کا ڈھیر لگاتے جاتے ہیں-کہتے جاتے ہیں-اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں-اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں لیکن جو زیادہ دور ہوتا جاتا ہے وہ زیادہ قریب آتا جاتا ہے اور وہ ہمارے دل اور دما غ کے اس حصے تک  جا پہنچتا ہے  کہ کبھی اس کو

…. وہا ں سے نکالنا پڑے تو پھر اس کے بعد نارمل زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے

امربیل -ص555